ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ضروری نہیں کہ جج پریس کے ذریعے شہریوں تک پہنچے: چیف جسٹس رنجن گگوئی

ضروری نہیں کہ جج پریس کے ذریعے شہریوں تک پہنچے: چیف جسٹس رنجن گگوئی

Sat, 16 Nov 2019 10:48:13    S.O. News Service

نئی دہلی،16/نومبر (ایس او نیوز/یو این آئی) تقریبا 22 مہینے پہلے پریس کانفرنس کے ذریعے ملک کے شہریوں تک اپنی آواز پہنچانے والے چار ججوں میں شامل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے جمعہ کے روزکہا کہ یہ ضروری نہیں کہ جج پریس کے ذریعے شہریوں تک پہنچے۔

آئندہ اتوار کو چیف جسٹس کے عہدے سے سبکدوش ہو رہے جسٹس گگوئی نے صحافیوں کے الگ الگ انٹرویو کی درخواست ٹھكراتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں افواہ اور جھوٹ کو روکنے میں پریس کا حساس ہونا قابل تعریف ہے، لیکن ضروری نہیں ہے کہ جج پریس کے ذریعے شہریوں تک پہنچے۔

واضح رہے کہ جسٹس گگگوئی خود ان چار ججوں میں شامل تھے، جنہوں نے 12 جنوری 2018 کو پریس کانفرنس کرکے الزام لگایا تھا کہ سپریم کورٹ کی انتظامیہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہی ہے۔ چیف جسٹس عدالتی اصولوں کے خلاف اپنی پسند کے مطابق مختلف بینچوں کو کیسز متعین کرتے ہیں۔

پریس کانفرنس کے ذریعے ملک کے شہریوں تک اپنی آواز پہنچانے والے تین دیگر ججوں میں جسٹس چیلیمیشور، جسٹس مدن لوکر اور جسٹس کورین جوزف شامل ہیں۔ جسٹس گگگوئی نے مزید کہا، "یہ نہیں کہا جا رہا ہے کہ جج نہ بولیں، وہ بول سکتے ہیں، لیکن صرف کام کاج کی ضروریات کے لئے۔ تلخ حقیقت ضرور یادوں میں رہنی چاہئے۔ " انہوں نے میڈیا سے کہا کہ مستقبل میں وہ مناسب وقت دیکھ کر باہمی مفادات کے معاملے پر میڈیا سے ضرور باتیں کریں گے۔

چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقد الوداعی تقریب میں بھی کوئی خطاب دینے سے انکار کردیا تھا۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایسوسی ایشن کو پہلے ہی آگاہ کیا تھا کہ ان کی الوداعی تقریب میں اسٹیج کا کوئی انتظام نہ کیا جائے۔الوداعی تقریب میں ان کی عزت افزائی کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہو گئے۔


Share: